بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا
آرام طلب ہونے کا گماں جویا پہ ترے لاحول ولاتب پاؤں کو توڑے بیٹھا ہوں جب دشت و جبل کو چھان لیا
About this couplet
This is couplet 8 of 11 in “بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (کلامِ شاد).
Read it in the poem۸ / ۱۱