بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا

جس بھیس میں تو ہو کیا پروا آئندہ نہ کھائے گی دھوکااے طالب دنیا دنیا نے ہر طرح تجھے پہچان لیا

About this couplet

This is couplet 9 of 11 in “⁨بھاگا تو بہت تھا موت سے میں کم بخت نے لیکن آن لیا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Shad Azimabadi's Urdu book Kalam-e-Shad (⁨کلامِ شاد⁩).

Read it in the poem

۹ / ۱۱