کلامِ شادردیف الف
تا عمر آشنا نہ ہوا دل گناہ کا
تا عمر آشنا نہ ہوا دل گناہ کاخالق بھلا کرے تری ترچھی نگاہ کا
تنہا مزا اٹھاتا ہے دل رسم و راہ کابینا تو ہے پہ بس نہیں چلتا نگاہ کا
جی بھر کے دیکھ لوں تو کر اس جرم پر شہیدیوں اپنے سر پہ خون نہ لے بے گناہ کا
رونا جو ہو تو رو لے بس اے چشم وقت نزعاب آج خاتمہ بھی ہے روز سیاہ کا
پہنچا کے ہم کو قبر میں جاتے ہیں اپنے گھرلیجیے انھوں نے وعدہ کیا تھا نباہ کا
تقدیر حشر سے ہمیں لائی بہشت میںارمان دل میں رہ گیا اس دادخواہ کا
پاپوش ناز کرتی ہے ان کی زمین پرچشمک زن سپہر ہے گوشہ کلاہ کا
دیکھا نہ کارواں نے پلٹ کر کہ کون ہوںمیری طرح نہ ہو کوئی واماندہ راہ کا
منزل کے قطع کرنے کا محکم ہوا جو قصداک اک درخت خضر بنا میری راہ کا
ڈھوئے کہاں تک اس تن خاکی کو عمر بھراب روح کو ملے کوئی گوشہ نباہ کا
بہتر کہیں تھے مجھ سے وہ مے خوار ساقیاحیلہ جو ڈھونڈتے رہے عفو گناہ کا
اشکوں کا سلسلہ کہیں ٹوٹے بھی اے فراقتھک بھی چکے قدم مری فریاد و آہ کا
اک تجھ پہ منحصر نہیں اے خضر کر نہ نازہر راہرو کو تکتا ہے واماندہ راہ کا
رکھا جناں میں بھی ہمیں مغموم تا ابداقرار ہم سے لے کے ہمارے گناہ کا
اظہار غم کیا تو یہ اس نے دیا جوابچہرہ گواہی دیتا ہے جھوٹے گواہ کا
غوغائے حشر دل میں سماتا نہیں مرےہنگامہ یاد ہے مجھے فرقت میں آہ کا
بھجوا دیا بہشت میں پوچھا نہ دل کا حالکیا خوب فیصلہ کیا اس دادخواہ کا
کیا جانیے تلاش اثر میں کہاں گئیاب تک کہیں پتہ نہ لگا میری آہ کا
سینے میں اپنے نالہ و شیون کا شور ہےماتم ہمیشہ ہے دل غفراں پناہ کا
یوسف کو اے سپہر کنویں میں گرا تو دےمنظور امتحاں ہے زلیخا کی چاہ کا
کیونکر نہ اہل بزم میں اے شادؔ ہو رسوخنعم البدل ہوں راسخؔ غفراں پناہ کا
۸ / ۷۹