کلامِ شادردیف الف

جب کسی نے حال پوچھا رو دیا

۱

جب کسی نے حال پوچھا رو دیاچشم تر تو نے تو مجھ کو کھو دیا

۲

داغ ہو یا سوز ہو یا درد و غملے لیا خوش ہو کے جس نے جو دیا

۳

اشک ریزی کے دھڑلے نے غبارجب ذرا بھی دل پہ دیکھا دھو دیا

۴

دل کی پروا تک نہیں اے بے خودیکیا کیا پھینکا کہاں کس کو دیا

۵

کچھ نہ کچھ اس انجمن میں حسب حالتو نے قسام ازل سب کو دیا

۶

کشت دنیا کیا خبر کیا پھل ملےتخم غم ہم نے تو آ کر بو دیا

۷

یہ بھی نشہ مے کشو کچھ کم نہیںدے نہ دے ساقی پہ تم سمجھو دیا

۸

شادؔ کے آگے بھلا کیا ذکر یارنام ادھر آیا کہ اس نے رو دیا

۹

زمرۂ اہل قلم میں لکھ کے نامخود کو ناحق شادؔ تو نے کھو دیا

۹ / ۷۹