کلامِ شادردیف الف

غم فراق مے و جام کا خیال آیا

۱

غم فراق مے و جام کا خیال آیاسفید بال لیے سر پہ اک وبال آیا

۲

ملے گا غیر بھی ان کے گلے بہ شوق اے دلحلال کرنے مجھے عید کا ہلال آیا

۳

اگر ہے دیدۂ روشن تو آفتاب کو دیکھادھر عروج ہوا اور ادھر زوال آیا

۴

لٹائے دیتے ہیں ان موتیوں کو دیدۂ شوقبھر آئے اشک کہ مفلس کے ہاتھ مال آیا

۵

لگی نسیم بہاری جو معرفت گانےگلوں پہ کچھ نہیں موقوف سب کو حال آیا

۶

پیام بر کو عبث دے کے خط ادھر بھیجاغریب اور وہاں سے شکستہ حال آیا

۷

خدا خدا کرو اے شادؔ اس پہ نخوت کیاجو شاعری تمہیں آئی تو کیا کمال آیا

۱۰ / ۷۹