کلامِ شادردیف الف

دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیا

۱

دل اپنی طلب میں صادق تھا گھبرا کے سوئے مطلوب گیادریا سے یہ موتی نکلا تھا دریا ہی میں جا کر ڈوب گیا

۲

احوال جوانی پیری میں کیا عرض کروں اک قصہ ہےوہ طرز گئی وہ وضع گئی انداز گیا اسلوب گیا

۳

لا ریب خموشی نے تیری تاثیر دکھا دی مستوں کوبے باک جو مے کش تھا ساقی اس بزم سے وہ محجوب گیا

۴

بے راحلہ و بے زاد سفر رحمت پہ بھروسا فرما کرجو ملک عدم میں بسنے کو اس طرح گیا وہ خوب گیا

۵

بد حال بہت تھا اس پر بھی اے یار کسی نے لی نہ خبربڑ مار کے تیرے کوچے سے آخر کو ترا مجذوب گیا

۶

رضواں نے کیا در خلد کا وا حوریں ہوئیں صدقے آ آ کرغلماں نے قدم چومے اس کے جو تیری طرف منسوب گیا

۷

طاقت جو نہیں اب حیرت سے تصویر کا عالم رہتا ہےوہ آخر شب کی آہ گئی وہ لغرۂ محبوب گیا

۸

یاں اپنی سزا بھگتی اس نے رحمت کی نظر ہوگی اس پرہر چند خطا کار الفت کوچے سے ترے معتوب گیا

۹

حیرت ہے عبث اے جو ان بیش بہا منصوبوں پراس طرح کے موتی تب نکلے جب زیر زمیں میں ڈوب گیا

۱۰

کیا اس کا سبب میں عرض کروں کچھ واقعے ایسے پیش آئےمیں روتا ہوا آیا تھا یہاں چپ یاں سے گیا مرعوب گیا

۱۱

کوچے میں ترے اب شادؔ نہیں لے پاک خدا نے کی یہ زمیںصد شکر سرائے فانی سے آخر وہ سگ معیوب گیا

۱۱ / ۷۹