کلامِ شادردیف الف
فقط شور دل پر آرزو تھا
فقط شور دل پر آرزو تھانہ اپنے جسم میں ہم تھے نہ تو تھا
ہر اک کے پاؤں پر جھکتے کٹی عمرنہ سمجھے ہم کہ کس قالب میں تو تھا
جہاں پہنچے اسی کا نور پایاجدھر دیکھا وہی خورشید رو تھا
جگہ دامن میں اپنے کیوں نہ دیتےکہ طفل اشک اپنا ہی لہو تھا
کہوں کیا دل کی میں نازک مزاجیخدا بخشے نہایت تند خو تھا
میں کیفیت کہوں کیا بزم مے کیکہ مینا ہاتھ میں آنکھوں میں تو تھا
غش آیا اس نے تولی تیغ جب جبعجب ہلکا ہمارا بھی لہو تھا
بہت ڈھونڈا کہیں پایا نہ ہم نےبتا دے یہ کہ کس گوشے میں تو تھا
بچا قاتل کا دامن للہ الحمدبہت کھولا ہوا اپنا لہو تھا
عدو تھے ساقیا سب مے کدے میںیہی اک آس تھی پلے پہ تو تھا
لباس کہنہ جب تھا اپنا صدچاکتو پھر بے کار پیوند و رفو تھا
غضب میں آ کے تجھ کو توڑتا شیخنتیجہ بحث کا کیا اے سبو تھا
تری تصویر تھے ہم بھی کسی وقتیہی نقشا ہمارا ہو بہو تھا
نظر میں ہیچ تھا کونین ساقیلبالب جام تھا ہم تھے سبو تھا
سزا لغزش کی پاتے بزم میں ہمخدا کو خیر کرنا تھا کہ تو تھا
ہم اپنے ہوش میں باقی تھے ہر طرحمگر جب تو ہمارے روبرو تھا
تجھی سے منہ پھلا لیتے عجب کیاصبا غنچوں کا بھی آخر نمو تھا
چلے ہم باغ سے اے شادؔ کس وقتبہار آنے کو تھی گل کا نمو تھا
۱۲ / ۷۹