کلامِ شادردیف الف
بہت کچھ بھول ہو گئی بھولنے کا شادؔ سن آیا
۱
بہت کچھ بھول ہو گئی بھولنے کا شادؔ سن آیامری جاں غم عبث ہے جھڑکیاں سننے کا دن آیا
۲
ضرور اس نے کیا قاصد سے وعدہ اپنے آنے کاگیا تھا مضطرب یاں سے وہاں سے مطمئن آیا
۳
دل صد پارہ سے نسبت نہیں زنہار اے بلبلچمن میں جا کے عاشق پتیاں پھولوں کی گن آیا
۴
بڑی عظمت سے خود ساقی نے جا کر پیشوائی کیشرابی کوئی مے خانہ کے اندر جب مسن آیا
۵
چلو واعظ سے ہرگز کچھ نہ بولو چپ رہو رندوہوا جوش غضب یا سر پہ اس ناداں کے جن آیا
۶
مریض غم کی صحت کی خبر اللہ سنوائےگیا جو پاس اس کے شادؔ وہ پھر مطمئن آیا
۱۹ / ۷۹