کلامِ شادردیف الف
مصیبت جس سے زائل ہو رہی سامان کر دے گا
مصیبت جس سے زائل ہو رہی سامان کر دے گانہ گھبرانا خدا سب مشکلیں آسان کر دے گا
خرابات جہاں میں کون ہے دل سوز ساقی سااگر ترچھٹ بھی دینا ہے تو تجھ کو چھان کر دے گا
قناعت کی بھی دولت ہو تو استغنا نہیں لازمجسے تو نفع سمجھا ہے یہی نقصان کر دے گا
جگہ دل میں نہ دے شوق نموداری بری شے ہےیہی چسکا تجھے برباد اے نادان کر دے گا
کہوں گا آج سے میں صاحب اعجاز ناصح کواگر میرے دل مضطر کا اطمینان کر دے گا
تمناؤں کی مہمانی تصور کے حوالے کرکہ جو ساماں مناسب ہے وہی سامان کر دے گا
متاع بے بہا سے کم نہ جان اے چشم اشکوں کویہی رونا ترا خالی تری دوکان کر دے گا
کوئی گر سلطنت بھی دے تو واپس کر نہ لے اے دلسبک ہر طرف تجھ کو غیر کا احسان کر دے گا
کہے دیتا ہوں قاتل لے خبر جاں باز کی اپنےفنا شوق شہادت میں کسی دن جان کر دے گا
تری رو پوشیاں اے حسن کب بیکار جائیں گییہی پردہ عیاں عالم میں تیری شان کر دے گا
یقیں کر لے کہ خود وہ جلوہ گر پردے میں ہے ورنہیہی ظالم گماں تیرا تجھے حیران کر دے گا
غزل سے کیا مراد اے شادؔ ہے ارباب معنی کیکسی دن تصفیہ اس کا مرا دیوان کر دے گا
۲۰ / ۷۹