کلامِ شادردیف الف

لے کے خود پیر مغاں ہاتھ میں مینا آیا

۱

لے کے خود پیر مغاں ہاتھ میں مینا آیامے کشو شرم کہ اس پر بھی نہ پینا آیا

۲

نہ پلانا کسی مے کش کو نہ پینا آیاتجھ کو زاہد اگر آیا بھی تو کینہ آیا

۳

عمر بھر خون جگر بیٹھ کے پینا آیاآرزوؤ تمہیں مرنا ہمیں جینا آیا

۴

دل نے دیکھا مجھے اور میں نے فلک کو دیکھابچ کے ساحل پہ اگر کوئی سفینا آیا

۵

کسی بدمست کی یاد آ گئیں آنکھیں ساقیجب چھلکتا ہوا آگے مرے مینا آیا

۶

اک ذرا سی تھی کبھی کی خلش اس پر اے حشردل میں لیتا ہوا زاہد وہی کینہ آیا

۷

لڑکھڑانا کوئی سیکھا کوئی سیکھا مستیہم کو آیا تو فقط ڈھال کے پینا آیا

۸

خوش ہو اے چشم کہ ہے فصل یہی رونے کیمژدہ اے ابر کہ ساون کا مہینہ آیا

۹

پی ہی لینی تھی جو مے خانے کو آ نکلا تھاتجھ کو صحبت کا بھی زاہد نہ قرینا آیا

۱۰

چاہا جو کچھ وہ زمانے نے کیا نقش اس پرمیں تو سادہ لیے اس دل کا نگینہ آیا

۱۱

آج تک دامن گل چاک ہے خیاط ازلتجھ کو خلعت بھی حسینوں کا نہ سینا آیا

۱۲

دیکھ چاروں طرف اپنے کہ تماشا کیا ہےلے کے اس بزم میں تو دیدۂ بینا آیا

۱۳

منہ پہ عاشق کے محبت کی شکایت ناصحبات کرنے کا بھی ناداں نہ قرینا آیا

۱۴

کس طرح ملتے ہیں بچھڑوں سے دکھا دیں گے کبھیدل میں وہ تیر اگر چیر کے سینا آیا

۱۵

ڈھال کر دیتے ہیں کس کو کسے بے ڈھالے ہوئےمیرے ساقی کو تو یہ بھی نہ قرینا آیا

۱۶

زندگی کرتے ہیں کس طرح یہ سیکھو اس وقتشادؔ کیا نفع اگر مرنے پہ جینا آیا

۲۱ / ۷۹