کلامِ شادردیف الف
یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کا
۱
یہی موقع ہے زمانے سے گزر جانے کاکیوں اجل کیا کیا ساماں مرے مر جانے کا
۲
کیا کہوں نزع میں میں اپنی خموشی کا سببرنج ہے وقت کے بے کار گزر جانے کا
۳
حسب معمول چڑھایا نہیں ناصح کوئی جامیہ سبب بھی ہے مرے منہ کے اتر جانے کا
۴
تجھ سے رخصت ہے مری جلد بس اے پیر مغاںمنتظر ہوں فقط اس جام کے بھر جانے کا
۵
موتیوں کا تھا خزانہ مری چشم تر میںغم ہے دل کو انہیں دانوں کے بکھر جانے کا
۶
لے چلی موت بصد شوق ہمیں ساتھ اپنےنہ ہوا جب کوئی ساماں ترے گھر جانے کا
۷
تار ہوں آنسوؤں کے آہ کے ہرکارے ہوںسلسلہ کوئی تو ان تک ہو خبر جانے کا
۸
ناامیدی ہمیں پہنچاتی ہے پستی کی طرفیہی زینہ تو ہے کوٹھے سے اتر جانے کا
۹
دن بہ دن پاؤں کی طاقت میں کمی ہونے لگیشادؔ ساماں کرو اس دشت سے گھر جانے کا
۲۷ / ۷۹