کلامِ شادردیف الف

کعبہ بھی ہے ٹوٹا ہوا بت خانہ ہمارا

۱

کعبہ بھی ہے ٹوٹا ہوا بت خانہ ہمارایا رب رہے آباد یہ ویرانہ ہمارا

۲

باطن کی طرح پاک ہے خم خانہ ہماراکیوں کر نہ اچھوتا رہے پیمانہ ہمارا

۳

جو شمع ہوا کرتی ہے روشن سر بازاراس شمع پہ گرتا نہیں پروانہ ہمارا

۴

ساقی ترا مے خانہ رہے حشر تک آبادبھر جاتا ہے کشکول گدایانہ ہمارا

۵

بہہ جائے گا اس بزم میں اک فیض کا دریاآتا ہے چھلکتا ہوا پیمانہ ہمارا

۶

چل سوئے عدم چل ہمیں کیا عذر ہے اے موتتیار ہے سامان غریبانہ ہمارا

۷

بن جاتا ہے پھر شیخ کا بھی مرشد کاملڈگتا نہیں پیتا ہے جو پیمانہ ہمارا

۸

کس زلف کو سلجھائیں رقیبان سیہ کارچھوتا نہیں اس زلف کو پھر شانہ ہمارا

۹

فریاد کناں ہیں کسی پازیب کے دانےتوڑے کہیں زنجیر نہ دیوانہ ہمارا

۱۰

خاروں سے یہ کہہ دو کہ گل تر سے نہ الجھیںسیکھے کوئی انداز شریفانہ ہمارا

۱۱

تاثیر نہ ہو شادؔ تو دینا ہمیں الزامکچھ دیر تو سن واعظ حکیمانہ ہمارا

۳۴ / ۷۹