کلامِ شادردیف الف

کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کا

۱

کعبہ و دیر میں جلوہ نہیں یکساں ان کاجو یہ کہتے ہیں ٹٹولے کوئی ایماں ان کا

۲

جستجو کے لیے نکلے گا جو خواہاں ان کاگھر بتا دے گا کوئی مرد مسلماں ان کا

۳

تو نے دیدار کا جن جن سے کیا ہے وعدہہائے رے ان کی خوشی ہائے رے ارماں ان کا

۴

اپنے مٹنے کا سبب میں بھی بتا دوں اے شوقکاش چھو جائے مری خاک سے داماں ان کا

۵

چھوڑ کر آئے ہیں جو صبح وطن سی شے کومرتبہ کچھ تو سمجھ شام غریباں ان کا

۶

جن کی آغوش تصور میں ہے وہ حور جمالکہیں سچ ہو نہ یہی خواب پریشاں ان کا

۷

جو اس الجھاؤ کے خود ہیں متمنی دل سےکیا بگاڑے گی تری زلف پریشاں ان کا

۸

سر میں سودائے خرد پاؤں میں زنجیر شکوکبھید پائے گا نہ اس شکل سے انساں ان کا

۹

ہم دعا دیں تجھے دل کھول کے اے پہلوئے تنگٹوٹ کر سینہ میں رہ جائے جو پیکاں ان کا

۱۰

چاک کرنے کا ہے الزام مرے سر ناحقہاتھ ان کے ہیں ہم ان کے ہیں گریباں ان کا

۱۱

وہ مٹا کیوں نہیں دیتے مجھے حیرت تو یہ ہےان کے کہنے میں ہے دل دل میں ہے ارماں ان کا

۱۲

ان شہیدان محبت میں تو میں صاف کہوںکوئی اتنا نہیں پکڑے جو گریباں ان کا

۱۳

وہی ایسے ہیں کہ خاموش ہیں سب کی سن کرسب کو دعوا ہے کہ ہوں بندۂ فرماں ان کا

۱۴

پہلے ہم نیت خالص سے وضو تو کر لیںٹھہر اے خاک ٹھہر پاک ہے داماں ان کا

۱۵

چاہیں دوزخ میں اتاریں کہ جگہ خلد میں دیںدخل کیا غیر کو گھر ان کے ہیں مہماں ان کا

۱۶

کہیں پیوند کی کوشش کہیں تدبیر رفوجامۂ تن سے بہت تنگ ہے عریاں ان کا

۱۷

کیجیے شانہ و آئینہ کی حالت پہ نگاہسینہ صدچاک کوئی ہے کوئی حیراں ان کا

۱۸

مان لو پاؤں سے زنجیر بھی اتری لیکنبھاگ کر جائے کہاں قیدئ زنداں ان کا

۱۹

جن شہیدوں نے بہ صد درد تڑپ کر دی جانچھن گیا ہاتھ سے جیتا ہوا میداں ان کا

۲۰

ہم تو کیا چیز ہیں جبریل تو جا لیں ان تکروک لیتا ہے فرشتوں کو بھی درباں ان کا

۲۱

مست جاتے ہیں خرابات سے مسجد کی طرفراہ پر شور ہے اللہ نگہباں ان کا

۲۲

ہم شب ہجر کے جاگے نہ قیامت میں اٹھیںجب تلک خواب سے چونکائے نہ ارماں ان کا

۲۳

وہم تو ہی خلل انداز ہوا ہے ورنہکون جویا نہیں اے رہزن ایماں ان کا

۲۴

دن قیامت کا ڈھلا سب نے مرادیں پائیںرہ گیا دیکھ کے منہ تابع فرماں ان کا

۲۵

مرنے والوں کا اگر ساتھ دیا پورا کرلے جنازہ بھی اٹھا حسرت و ارماں ان کا

۲۶

حق جتاتے ہیں شہیدان محبت بے کارکیا یہ مرنا تھا بڑا کار نمایاں ان کا

۲۷

شادؔ گھبرا گیا اک عمر سے جیتے جیتےوہ بلا لیں مجھے اس وقت تو احساں ان کا

۳۵ / ۷۹