کلامِ شادردیف الف

کسی کو کیا خبر اے صبح وقت شام کیا ہوگا

۱

کسی کو کیا خبر اے صبح وقت شام کیا ہوگاخدا جانے ترے آغاز کا انجام کیا ہوگا

۲

گرفتاران گیسو پر نہیں کچھ منحصر ناصحپھنسا ہے جو تعلق میں اسے آرام کیا ہوگا

۳

عبث ہے زاہدوں کو مے کشی میں عذر ناداریگرو رکھ لیں اسی کو جامۂ احرام کیا ہوگا

۴

وہی رہ رہ کے گھبرانا وہی نا کار گر آہیںسوا اس بات کے تجھ سے دل ناکام کیا ہوگا

۵

اسے بھی جلد اٹھا کر طاق نسیاں کے حوالے کرنہیں پیش نظر جب ختم تو ساقی جام کیا ہوگا

۶

یہی ٹوٹے سبو مٹی کے کافی ہیں قناعت کربلوریں جام مے اے رند درد آشام کیا ہوگا

۷

تقرب جن کو ہے ان کو بھی یک گونہ ہے مایوسییہ حالت ہے تو پھر دیدار تیرا عام کیا ہوگا

۸

نہ پوچھو مفتیان شرع کا احوال جانے دوتنفر کفر کو جس سے ہو وہ اسلام کیا ہوگا

۹

سحر فرقت کی ہے اور غش پہ غش آتے ہیں عاشق کوابھی سے جب یہ حالت ہو گئی تا شام کیا ہوگا

۱۰

ضعیفی میں تو شادؔ اللہ اکبر پی گیا خم تکجوانی میں کہو یہ رند مے آشام کیا ہوگا

۱۱

زمانہ شادؔ بے گاری میں کیوں آخر پھنساتا ہےاپاہج کر دیا پیری نے مجھ سے کام کیا ہوگا

۳۶ / ۷۹