کلامِ شادردیف الف

وہ عالمگیر جلوہ اور حسن مشترک تیرا

۱

وہ عالمگیر جلوہ اور حسن مشترک تیراخدا جانے ان آنکھوں کو ہوا کس کس پہ شک تیرا

۲

بتا حد سے سوا ہم پاؤں پھیلائیں کدھر جائیںفقط دو گز زمیں اپنی ہے اور ساتوں فلک تیرا

۳

کیا اے سونے والے رحم صبح وصل نے تجھ پرکہ جوں جوں کھلتی ہیں آنکھیں مٹا جاتا ہے شک تیرا

۴

بس اب حد ہے کہ غیروں تک کا دامن جا کے پکڑا ہےڈگے کس کس جگہ ہم ہو گیا کس کس پہ شک تیرا

۵

ترے نقش قدم کی گرد تک پہنچے نہ واماندہبہت پیچھا کیا اے کارواں کوسوں تلک تیرا

۶

غذائے روح ہے اے حسن تو اپنی ملاحت سےہر اک کے ذائقے میں ٹھیک ہے آب و نمک تیرا

۷

اگر آنکھیں سلامت ہیں تو کیا کیا کچھ دکھائے گایہی پھیلا ہوا جلوہ سما سے تا سمک تیرا

۸

مری ہم دردیوں سے ہو گئی غیروں کو اک عبرتلیا گھبرا کے جب جب نام نامی بے دھڑک تیرا

۹

نہ پوچھو عشق نے غیرت سے کیا کیا رنگ بدلا ہےخیال آیا ہے ساتھ اوروں کے جب جب مشترک تیرا

۱۰

فقط زاہد پہ کیا موقوف سب کی رال ٹپکی ہےوہ شوخی وہ نمو کے دن وہ چہرہ بے ڈلک تیرا

۱۱

بہت تو نے جب اپنے پاؤں پھیلائے تو کیا چارہادب کرتی رہی اے اشک مدت تک پلک تیرا

۱۲

عبث الجھا کے رکھا ہے کوئی انصاف بھی آخرامیدیں ساتھ دیں گی شادؔ آخر کب تلک تیرا

۳۷ / ۷۹