کلامِ شادردیف ے
ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
۱
ایک ستم اور لاکھ ادائیں اف ری جوانی ہائے زمانےترچھی نگاہیں تنگ قبائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
۲
ہجر میں اپنا اور ہے عالم ابر بہاراں دیدۂ پر نمضد کہ ہمیں وہ آپ بلائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
۳
اپنی ادا سے آپ جھجکنا اپنی ہوا سے آپ کھٹکناچال میں لغزش منہ پہ حیائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
۴
ہاتھ میں آڑی تیغ پکڑنا تاکہ لگے بھی زخم تو اوچھاقصد کہ پھر جی بھر کے ستائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
۵
کالی گھٹائیں باغ میں جھولے دھانی دوپٹے لٹ جھٹکائےمجھ پہ یہ قدغن آپ نہ آئیں اف ری جوانی ہائے زمانے
۶
پچھلے پہر اٹھ اٹھ کے نمازیں ناک رگڑنی سجدوں پہ سجدےجو نہیں جائز اس کی دعائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
۷
شادؔ نہ وہ دیدار پرستی اور نہ وہ بے نشہ کی مستیتجھ کو کہاں سے ڈھونڈ کے لائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
۵۱ / ۷۹