کلامِ شادردیف ے

بھول نہ اس کو دھن ہے جدھر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

۱

بھول نہ اس کو دھن ہے جدھر کی چونک مسافر رات نہیں ہےشکل نمایاں ہوگی سحر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

۲

آنکھیں ملتے صحن چمن میں جھوم کے اٹھے نیند کے ماتےدیکھ صبا نے آ کے خبر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

۳

نیلے نیلے رنگ کے اوپر بڑھتی ہی جاتی ہے سفیدیہو گئی رنگت زر و قمر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

۴

زور نہ طاقت سنگ نہ ساتھی پاؤں سے اپنے آپ ہے چلناتجھ پہ ہے بھاری راہ سفر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

۵

تجھ پہ میں قرباں جانی پیارے ہم نفس و ہم درد ہمارےتجھ سے ہے الفت میں نے خبر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

۶

پنکھ پکھیرو خواب سے چونکے سب نے خوشی کے نعرے مارےآئی صدا مرغان سحر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

۷

کوچ کی ساعت آ گئی سر پر شادؔ اٹھا لے جھولی بسترنیند میں ساری رات بسر کی چونک مسافر رات نہیں ہے

۵۲ / ۷۹