کلامِ شادردیف ی

مرے دانتوں کی عمر اے آرزو مجھ سے بھی چھوٹی تھی

۱

مرے دانتوں کی عمر اے آرزو مجھ سے بھی چھوٹی تھیاسی نے ساتھ چھوڑا دانت کاٹی جن سے روٹی تھی

۲

شکایت آرزو کی بے کئے ناصح نہیں بنتییہ سب دل جوئیاں ظاہر کی تھی باطن کی کھوٹی تھی

۳

ہوا در در لیے پھرتی ہے اب تو میری مٹی کویہ ہے وہ خاک جو اک دن ترے قدموں پہ لوٹی تھی

۴

بہت گہرے نہ ہوں اوچھے سہی چرکے تو پورے ہیںخطا قاتل کی کیا ہے اک درا تلوار چھوٹی تھی

۵

پہاڑ اس پر گرا اے آسماں کیا بس چلے ورنہہمارے آشیاں کی شاخ سب شاخوں سے موٹی تھی

۶

بلا کر تو نے اے ہستی یہاں کی خوب مہمانیوہی کرتے ہیں فاقے جن کے دم سے دس کی روٹی تھی

۷

پہنچ جاتی تھی اس اس گھر میں جس جس گھر کا پاسا تھاجو سچ پوچھو تو میری آرزو چوسر کی گوٹی تھی

۸

نہ کیوں کر تیری یکتائی کا کلمہ نقش ہو دل پرسبق کی طرح برسوں یہ عبارت ہم نے گھوٹی تھی

۹

مجھے خوش خوش جو پایا جل کے کیا جلدی ہوئی رخصتشب وصل اے فلک سب کچھ سہی نیت کی چھوٹی تھی

۱۰

یہ سچ ہے شادؔ کیا تھا کچھ نہ تھا لیکن تمہارا تھانہ سمجھا تم نے اے باریک بینو بات موٹی تھی

۵۰ / ۷۹