کلامِ شادردیف ن

کہاں یہ تاب کہ چکھ چکھ کے یا گرا کے پیوں

۱

کہاں یہ تاب کہ چکھ چکھ کے یا گرا کے پیوںملے بھرا ہوا ساغر تو ڈگڈگا کے پیوں

۲

ہزار تلخ ہو پیر مغاں نے جب دی ہےخدا نہ کردہ جو میں منہ بنا بنا کے پیوں

۳

مزا ہے بادہ کشی کا وہیں تو اے ساقیپیوں جو اب تو ترے آستاں پہ آ کے پیوں

۴

بغیر جلوہ دکھائے رہے نہ یہ معشوقجو سات پردے کے اندر اسے چھپا کے پیوں

۵

میں وہ نہیں کہ خود اپنے قدح کی خیر مناؤںپیوں تو بزم میں دس پانچ کو پلا کے پیوں

۶

زمیں پہ جام کو رکھ دے ذرا ٹھہر ساقیمیں تجھ پہ ہوں لوں تصدق تو پھر اٹھا کے پیوں

۷

وہ مے کدہ ہے نہ ساقی ہے کچھ نہ پوچھو شادؔمیں کس کے گھر میں پیوں کس کے گھر سے لا کے پیوں

۴۹ / ۷۹