کلامِ شادردیف م

اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کام

۱

اے بت جفا سے اپنی لیا کر وفا کا کامبندوں کے کام آ کہ یہی ہے خدا کا کام

۲

کس جا تھا قصد شوق نے پہنچا دیا کدھرکہتے نہ تھے ٹھگوں سے نہ لے رہ نما کا کام

۳

کہتا ہے دل سنا مجھے گیسو کی داستاںآج اس نے سر پہ ڈال دیا ہے بلا کا کام

۴

تاثیر کو نہ آہ سے پوچھوں تو کیا کروںکیوں خود اٹھا لیا دل بے مدعا کا کام

۵

اپنی سی تو تو کر انہیں پھر اختیار ہےسننا ہے ان کا کام پہنچنا دعا کا کام

۶

سینے میں داغ کھلتے ہی جاتے ہیں ہر نفساب اپنی سانس کرتی ہے باد صبا کا کام

۷

موسیٰ فقط نہ تھے ترے آئینہ داروں میںعیسیٰ بھی کرتے تھے لب معجزنما کا کام

۸

ہر رات اپنی آنکھوں کو رونا ہے فرض عینطاعت گزار کرتے ہیں جیسے خدا کا کام

۹

تھا بھی ذلیل حسن کی سرکار میں یہ دلکم بخت کو سپرد ہوا التجا کا کام

۱۰

اے شادؔ میری سخت زبانی پہ ہے خموشناصح بھی اب تو کرنے لگا انبیا کا کام

۴۲ / ۷۹