کلامِ شادردیف م
تمام عمر نمک خوار تھے زمیں کے ہم
۱
تمام عمر نمک خوار تھے زمیں کے ہموفا سرشت میں تھی ہو رہے یہیں کے ہم
۲
نکل کے روح ڈنواڈول ہو نہ جائے کہیںہزار حیف نہ دنیا کے ہیں، نہ دیں کے ہم
۳
نظر اٹھا کے نہ دیکھا کسی طرف تا عمررہے خیال میں اک چشم سرمہ گیں کے ہم
۴
زمیں چھڑائی گئی ہم سے جب بنا کر خاکیہاں پہ کیا نہ رہے اے صبا کہیں کے ہم
۵
یہاں مکاں ہے تو کیوں آسماں کی سیر کریںمکیں ہیں شادؔ ازل سے اسی زمیں کے ہم
۶
زمانہ شادؔ ہمیں کیوں بھلا نہیں دیتانہ ہجو کے نہ سزاوار آفریں کے ہم
۴۳ / ۷۹