کلامِ شادردیف م
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہمجو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پردریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم
ہو جائے بکھیڑا پاک کہیں پاس اپنے بلا لیں بہتر ہےاب درد جدائی سے ان کی اے آہ بہت بیتاب ہیں ہم
اے شوق برا اس وہم کا ہو مکتوب تمام اپنا نہ ہواواں چہرہ پہ ان کے خط نکلا یاں بھولے ہوئے القاب ہیں ہم
کس طرح تڑپتے جی بھر کر یاں ضعف نے مشکیں کس دیں ہیںہو بند اور آتش پر ہو چڑھا سیماب بھی وہ سیماب ہیں ہم
اے شوق پتا کچھ تو ہی بتا اب تک یہ کرشمہ کچھ نہ کھلاہم میں ہے دل بے تاب نہاں یا آپ دل بے تاب ہیں ہم
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایکاے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کم یاب ہیں ہم
مرغان قفس کو پھولوں نے اے شادؔ یہ کہلا بھیجا ہےآ جاؤ جو تم کو آنا ہو ایسے میں ابھی شاداب ہیں ہم
۴۴ / ۷۹