کلامِ شادردیف م

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

۱

ڈھونڈوگے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہمجو یاد نہ آئے بھول کے پھر اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم

۲

میں حیرت و حسرت کا مارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پردریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم

۳

ہو جائے بکھیڑا پاک کہیں پاس اپنے بلا لیں بہتر ہےاب درد جدائی سے ان کی اے آہ بہت بیتاب ہیں ہم

۴

اے شوق برا اس وہم کا ہو مکتوب تمام اپنا نہ ہواواں چہرہ پہ ان کے خط نکلا یاں بھولے ہوئے القاب ہیں ہم

۵

کس طرح تڑپتے جی بھر کر یاں ضعف نے مشکیں کس دیں ہیںہو بند اور آتش پر ہو چڑھا سیماب بھی وہ سیماب ہیں ہم

۶

اے شوق پتا کچھ تو ہی بتا اب تک یہ کرشمہ کچھ نہ کھلاہم میں ہے دل بے تاب نہاں یا آپ دل بے تاب ہیں ہم

۷

لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایکاے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کم یاب ہیں ہم

۸

مرغان قفس کو پھولوں نے اے شادؔ یہ کہلا بھیجا ہےآ جاؤ جو تم کو آنا ہو ایسے میں ابھی شاداب ہیں ہم

۴۴ / ۷۹