کلامِ شادردیف ن
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
۱
تمناؤں میں الجھایا گیا ہوںکھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
۲
ہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں
۳
نہیں اٹھتے قدم کیوں جانب دیرکسی مسجد میں بہکایا گیا ہوں
۴
دل مضطر سے پوچھ اے رونق بزممیں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں
۵
سویرا ہے بہت اے شور محشرابھی بے کار اٹھوایا گیا ہوں
۶
ستایا آ کے پہروں آرزو نےجو دم بھر آپ میں پایا گیا ہوں
۷
نہ تھا میں معتقد اعجاز مے کابڑی مشکل سے منوایا گیا ہوں
۸
لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپا کربھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں
۹
عدم میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائےبھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں
۱۰
کجا میں اور کجا اے شادؔ دنیاکہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں
۴۶ / ۷۹