کلامِ شادردیف ن
خضر کیا ہم تو اس جینے میں بازی سب سے جیتے ہیں
۱
خضر کیا ہم تو اس جینے میں بازی سب سے جیتے ہیںدم اب اکتا گیا اللہ اکبر کب سے جیتے ہیں
۲
سمجھ لے قاصدوں نے کچھ تو ایسی ہی خبر دی ہےکہیں کیا تجھ سے اے ناصح کہ جس مطلب سے جیتے ہیں
۳
کسی حالت نہ ہم سے بڑھ سکے گی رات فرقت کیکہ ہم بازی سیہ بختی میں بھی اس شب سے جیتے ہیں
۴
دم اپنا گھٹ کے کب کا ہجر جاناں میں نکل جاتامددگاریٔ شور نعرۂ یا رب سے جیتے ہیں
۵
اسے باور کر اے غم خوار کب کے مر گئے ہوتےپیام وصل جب سے سن لیا ہے تب سے جیتے ہیں
۶
زباں قابو میں ہے سننے کو تشبیہیں سنے جاؤنزاکت میں کہاں اوراق گل اس لب سے جیتے ہیں
۷
عبث دریافت کرتے ہو سبب اس سخت جانی کاخدا جانے کہ ہم اے شادؔ کس مطلب سے جیتے ہیں
۴۷ / ۷۹