کلامِ شادردیف ن

جو تنگ آ کر کسی دن دل پہ ہم کچھ ٹھان لیتے ہیں

۱

جو تنگ آ کر کسی دن دل پہ ہم کچھ ٹھان لیتے ہیںستم دیکھو کہ وہ بھی چھوٹتے پہچان لیتے ہیں

۲

بہ قدر حوصلہ صحرائے وحشت چھان لیتے ہیںمسافر ہیں سفر کے واسطے سامان لیتے ہیں

۳

خدا چاہے تو اب کے قتل گہہ میں مشکل آساں ہوترے بیمار ناحق موت کا احسان لیتے ہیں

۴

کہیں مرقد پہ جاتے ہیں کہیں گھر تک نہیں جاتےکسی کو جان دیتے ہیں کسی کی جان لیتے ہیں

۵

کدورت تاکہ رہ جائے سب اپنے دامن تر میںشراب شوق ہم پینے کے پہلے چھان لیتے ہیں

۶

ہماری شاعری زندہ ہوئی اے شادؔ مرنے پرکہ شائق نقد جاں دے دے کے اب دیوان لیتے ہیں

۴۸ / ۷۹