کلامِ ظفرردیف الف

قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلا

۱

قاروں اٹھا کے سر پہ سنا گنج لے چلادنیا سے کیا بخیل بجز رنج لے چلا

۲

منت تھی بوسۂ لب شیریں کہ دل مرامجھ کو سوئے مزار شکر گنج لے چلا

۳

ساقی سنبھالتا ہے تو جلدی مجھے سنبھالورنہ اڑا کے پاں نشۂ بنج لے چلا

۴

دوڑا کے ہاتھ چھاتی پہ ہم ان کی یوں پھرےجیسے کوئی چور آ کے ہو نارنج لے چلا

۵

چوسر کا لطف یہ ہے کہ جس وقت پو پڑےہم بر چہار بولے تو برپنج لے چلا

۶

جس دم ظفرؔ نے پڑھ کے غزل ہاتھ سے رکھیآنکھوں پہ رکھ ہر ایک سخن سنج لے چلا

۳ / ۵۲