کلامِ ظفرردیف الف
رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا
۱
رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گاپھر کے برج سنبلہ میں آفتاب آ جائے گا
۲
تیرا احساں ہوگا قاصد گر شتاب آ جائے گاصبر مجھ کو دیکھ کر خط کا جواب آ جائے گا
۳
ہو نہ بیتاب اتنا گر اس کا عتاب آ جائے گاتو غضب میں اے دل خانہ خراب آ جائے گا
۴
اس قدر رونا نہیں بہتر بس اب اشکوں کو روکورنہ طوفاں دیکھ اے چشم پر آب آ جائے گا
۵
پیش ہووے گا اگر تیرے گناہوں کا حسابتنگ ظالم عرصۂ روز حساب آ جائے گا
۶
دیکھ کر دست ستم میں تیری تیغ آب دارمیرے ہر زخم جگر کے منہ میں آب آ جائے گا
۷
اپنی چشم مست کی گردش نہ اے ساقی دکھادیکھ چکر میں ابھی جام شراب آ جائے گا
۸
خوب ہوگا ہاں جو سینہ سے نکل جائے گا توچین مجھ کو اے دل پر اضطراب آ جائے گا
۹
اے ظفرؔ اٹھ جائے گا جب پردہ شرم و حجابسامنے وہ یار میرے بے حجاب آ جائے گا
۴ / ۵۲