کلامِ ظفرردیف الف
جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا
جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوایہ عشق جان کو میرے کوئی عذاب ہوا
کیا جو قتل مجھے تم نے خوب کام کیاکہ میں عذاب سے چھوٹا تمہیں ثواب ہوا
کبھی تو شیفتہ اس نے کہا کبھی شیداغرض کہ روز نیا اک مجھے خطاب ہوا
پیوں نہ رشک سے خوں کیونکہ دم بہ دم اپناکہ ساتھ غیر کے وہ آج ہم شراب ہوا
تمہارے لب کے لب جام نے لیے بوسےلب اپنے کاٹا کیا میں نہ کامیاب ہوا
گلی گلی تری خاطر پھرا بچشم پر آبلگا کے تجھ سے دل اپنا بہت خراب ہوا
تری گلی میں بہائے پھرے ہے سیل سرشکہمارا کاسۂ سر کیا ہوا حباب ہوا
جواب خط کے نہ لکھنے سے یہ ہوا معلومکہ آج سے ہمیں اے نامہ بر جواب ہوا
منگائی تھی تری تصویر دل کی تسکیں کومجھے تو دیکھتے ہی اور اضطراب ہوا
ستم تمہارے بہت اور دن حساب کا ایکمجھے ہے سوچ یہ ہی کس طرح حساب ہوا
ظفرؔ بدل کے ردیف اور تو غزل وہ سناکہ جس کا تجھ سے ہر اک شعر انتخاب ہوا
۵ / ۵۲