کلامِ ظفرردیف الف
پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیا
۱
پان کھا کر سرمہ کی تحریر پھر کھینچی تو کیاجب مرا خوں ہو چکا شمشیر پھر کھینچی تو کیا
۲
اے مہوس جب کہ زر تیرے نصیبوں میں نہیںتو نے محنت بھی پئے اکسیر پھر کھینچی تو کیا
۳
گر کھنچے سینہ سے ناوک روح تو قالب سے کھینچاے اجل جب کھنچ گیا وہ تیر پھر کھینچی تو کیا
۴
کھینچتا تھا پاؤں میرا پہلے ہی زنجیر سےاے جنوں تو نے مری زنجیر پھر کھینچی تو کیا
۵
دار ہی پر اس نے کھینچا جب سر بازار عشقلاش بھی میری پئے تشہیر پھر کھینچی تو کیا
۶
کھینچ اب نالہ کوئی ایسا کہ ہو اس کو اثرتو نے اے دل آہ پر تاثیر پھر کھینچی تو کیا
۷
چاہیئے اس کا تصور ہی سے نقشہ کھینچنادیکھ کر تصویر کو تصویر پھر کھینچی تو کیا
۸
کھینچ لے اول ہی سے دل کی عنان اختیارتو نے گر اے عاشق دلگیر پھر کھینچی تو کیا
۹
کیا ہوا آگے اٹھائے گر ظفرؔ احسان عقلاور اگر اب منت تدبیر پھر کھینچی تو کیا
۶ / ۵۲