کلامِ ظفرردیف الف
یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا
۱
یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتایا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا
۲
اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تو نےکیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا
۳
خاکساری کے لیے گرچہ بنایا تھا مجھےکاش خاک در جانانہ بنایا ہوتا
۴
نشۂ عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کوعمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا
۵
دل صد چاک بنایا تو بلا سے لیکنزلف مشکیں کا ترے شانہ بنایا ہوتا
۶
صوفیوں کے جو نہ تھا لائق صحبت تو مجھےقابل جلسۂ رندانہ بنایا ہوتا
۷
تھا جلانا ہی اگر دورئ ساقی سے مجھےتو چراغ در مے خانہ بنایا ہوتا
۸
شعلۂ حسن چمن میں نہ دکھایا اس نےورنہ بلبل کو بھی پروانہ بنایا ہوتا
۹
روز معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفرؔایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا
۷ / ۵۲