نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
مجھے صاف بتائے نگار اگر تو یہ پوچھوں میں رو رو کے خون جگرملے پاؤں سے کس کے ہیں دیدۂ تر کف پا پہ جو رنگ حنا نہ رہا
About this couplet
This is couplet 8 of 11 in “نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Bahadur Shah Zafar's Urdu book Kalam-e-Zafar (کلامِ ظفر).
Read it in the poem۸ / ۱۱