نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا

اسے چاہا تھا میں نے کہ روک رکھوں مری جان بھی جائے تو جانے نہ دوںکئے لاکھ فریب کروڑ فسوں نہ رہا نہ رہا نہ رہا نہ رہا

About this couplet

This is couplet 9 of 11 in “⁨نہیں عشق میں اس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Bahadur Shah Zafar's Urdu book Kalam-e-Zafar (⁨کلامِ ظفر⁩).

Read it in the poem

۹ / ۱۱