کلامِ ظفرردیف الف
نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانا
۱
نہ درویشوں کا خرقہ چاہیئے نہ تاج شاہانامجھے تو ہوش دے اتنا رہوں میں تجھ پہ دیوانا
۲
کتابوں میں دھرا ہے کیا بہت لکھ لکھ کے دھو ڈالیںہمارے دل پہ نقش کالجحر ہے تیرا فرمانا
۳
غنیمت جان جو دم گزرے کیفیت سے گلشن میںدئیے جا ساقی پیماں شکن بھر بھر کے پیمانا
۴
نہ دیکھا وہ کہیں جلوہ جو دیکھا خانۂ دل میںبہت مسجد میں سر مارا بہت سا ڈھونڈا بت خانا
۵
کچھ ایسا ہو کہ جس سے منزل مقصود کو پہنچوںطریق پارسائی ہووے یا ہو راہ رندانا
۶
یہ ساری آمد و شد ہے نفس کی آمد و شد پراسی تک آنا جانا ہے نہ پھر جانا نہ پھر آنا
۷
ظفرؔ وہ زاہد بے درد کی ہو حق سے بہتر ہےکرے گر رند درد دل سے ہاو ہوئے مستانا
۹ / ۵۲