کلامِ ظفرردیف الف

کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوا

۱

کیا کہوں دل مائل زلف دوتا کیونکر ہوایہ بھلا چنگا گرفتار بلا کیونکر ہوا

۲

جن کو محراب عبادت ہو خم ابروئے یاران کا کعبے میں کہو سجدہ ادا کیونکر ہوا

۳

دیدۂ حیراں ہمارا تھا تمہارے زیر پاہم کو حیرت ہے کہ پیدا نقش پا کیونکر ہوا

۴

نامہ بر خط دے کے اس نو خط کو تو نے کیا کہاکیا خطا تجھ سے ہوئی اور وہ خفا کیونکر ہوا

۵

خاکساری کیا عجب کھووے اگر دل کا غبارخاک سے دیکھو کہ آئینہ صفا کیونکر ہوا

۶

جن کو یکتائی کا دعویٰ تھا وہ مثل آئینہان کو حیرت ہے کہ پیدا دوسرا کیونکر ہوا

۷

تیرے دانتوں کے تصور سے نہ تھا گر آبدارجو بہا آنسو وہ در بے بہا کیونکر ہوا

۸

جو نہ ہونا تھا ہوا ہم پر تمہارے عشق میںتم نے اتنا بھی نہ پوچھا کیا ہوا کیونکر ہوا

۹

وہ تو ہے نا آشنا مشہور عالم میں ظفرؔپر خدا جانے وہ تجھ سے آشنا کیونکر ہوا

۱۰ / ۵۲