کلامِ ظفرردیف الف

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑا

۱

ہم نے تری خاطر سے دل زار بھی چھوڑاتو بھی نہ ہوا یار اور اک یار بھی چھوڑا

۲

کیا ہوگا رفوگر سے رفو میرا گریباناے دست جنوں تو نے نہیں تار بھی چھوڑا

۳

دیں دے کے گیا کفر کے بھی کام سے عاشقتسبیح کے ساتھ اس نے تو زنار بھی چھوڑا

۴

گوشہ میں تری چشم سیہ مست کے دل نےکی جب سے جگہ خانۂ خمار بھی چھوڑا

۵

اس سے ہے غریبوں کو تسلی کہ اجل نےمفلس کو جو مارا تو نہ زردار بھی چھوڑا

۶

ٹیڑھے نہ ہو ہم سے رکھو اخلاص تو سیدھاتم پیار سے رکتے ہو تو لو پیار بھی چھوڑا

۷

کیا چھوڑیں اسیران محبت کو وہ جس نےصدقے میں نہ اک مرغ گرفتار بھی چھوڑا

۸

پہنچی مری رسوائی کی کیونکر خبر اس کواس شوخ نے تو دیکھنا اخبار بھی چھوڑا

۹

کرتا تھا جو یاں آنے کا جھوٹا کبھی اقرارمدت سے ظفرؔ اس نے وہ اقرار بھی چھوڑا

۱۱ / ۵۲