کلامِ ظفرردیف چ
ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچ
ٹکڑے نہیں ہیں آنسوؤں میں دل کے چار پانچسرخاب بیٹھے پانی میں ہیں مل کے چار پانچ
منہ کھولے ہیں یہ زخم جو بسمل کے چار پانچپھر لیں گے بوسے خنجر قاتل کے چار پانچ
کہنے ہیں مطلب ان سے ہمیں دل کے چار پانچکیا کہیے ایک منہ ہیں وہاں مل کے چار پانچ
دریا میں گر پڑا جو مرا اشک ایک گرمبت خانے لب پہ ہو گئے ساحل کے چار پانچ
دو چار لاشے اب بھی پڑے تیرے در پہ ہیںاور آگے دب چکے ہیں تلے گل کے چار پانچ
راہیں ہیں دو مجاز و حقیقت ہے جن کا نامرستے نہیں ہیں عشق کی منزل کے چار پانچ
رنج و تعب مصیبت و غم یاس و درد و داغآہ و فغاں رفیق ہیں یہ دل کے چار پانچ
دو تین جھٹکے دوں جوں ہی وحشت کے زور میںزنداں میں ٹکڑے ہوویں سلاسل کے چار پانچ
فرہاد و قیس و وامق و عذرا تھے چار دوستاب ہم بھی آ ملے تو ہوئے مل کے چار پانچ
ناز و ادا و غمزہ نگہ پنجۂ مژہماریں ہیں ایک دل کو یہ پل پل کے چار پانچ
ایما ہے یہ کہ دیویں گے نو دن کے بعد دللکھ بھیجے خط میں شعر جو بیدل کے چار پانچ
ہیرے کے نورتن نہیں تیرے ہوئے ہیں جمعیہ چاندنی کے پھول مگر کھل کے چار پانچ
مینائے نہہ فلک ہے کہاں بادۂ نشاطشیشے ہیں یہ تو زہر ہلاہل کے چار پانچ
ناخن کریں ہیں زخموں کو دو دو ملا کے ایکتھے آٹھ دس سو ہو گئے اب چھل کے چار پانچ
گر انجم فلک سے بھی تعداد کیجئےنکلیں زیادہ داغ مرے دل کے چار پانچ
ماریں جو سر پہ سل کو اٹھا کر قلق سے ہمدس پانچ ٹکڑے سر کے ہوں اور سل کے چار پانچ
مان اے ظفرؔ تو پنج تن و چار یار کوہیں صدر دین کی یہی محفل کے چار پانچ
۱۲ / ۵۲