کلامِ ظفرردیف ے

طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتے

۱

طلب ہیں عشقِ بتاں میں جو آبرو کرتےظفر ہیں آگ سے پانی کی آرزو کرتے

۲

اشارا اپنے جو ابرو کا وہ کبھو کرتےملک فلک سے پئے سجدہ سر فرو کرتے

۳

نمازِ عشق میں جب ہم ہیں سر فرو کرتےتو آبِ اشک سے سو بار ہیں وضو کرتے

۴

نہ رُوئے یار سے ہوتی جو نسبتِ کعبہتمام عمر بھی عاشق ادھر نہ رُو کرتے

۵

وہ سنتے حضرتِ ناصح کہ پھر نہ بات آتیجو ترکِ عشق میں کچھ اور گفتگو کرتے

۶

عجب نہیں ہے اگر رفتہ رفتہ گم ہوتےجو کوئے یار میں ہم دل کی جستجو کرتے

۳۸ / ۵۲