کلامِ ظفرردیف ے
وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلے
وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلےبلا سے اس کی گر اس میں کسی مضطر کا دم نکلے
کہاں آنسو کے قطرے خون دل سے ہیں بہم نکلےیہ دل میں جمع تھے مدت سے کچھ پیکان غم نکلے
مرے مضمون سوز دل سے خط سب جل گیا میراقلم سے حرف جو نکلے شرر ہی یک قلم نکلے
نکال اے چارہ گر تو شوق سے لیکن سر پیکاںادھر نکلے جگر سے تیر ادھر قالب سے دم نکلے
تصور سے لب لعلیں کے تیرے ہم اگر رو دیںتو جو لخت جگر آنکھوں سے نکلے اک رقم نکلے
نہیں ڈرتے اگر ہوں لاکھ زنداں یار زنداں سےجنون اب تو مثال نالۂ زنجیر ہم نکلے
جگر پر داغ لب پر دود دل اور اشک دامن میںتری محفل سے ہم مانند شمع صبح دم نکلے
اگر ہوتا زمانہ گیسوئے شب رنگ کا تیرےمری شب دیز سودا کا زیادہ تر قدم نکلے
کجی جن کی طبیعت میں ہے کب ہوتی وہ سیدھی ہےکہو شاخ گل تصویر سے کس طرح خم نکلے
شمار اک شب کیا ہم نے جو اپنے دل کے داغوں سےتو انجم چرخ ہشتم کے بہت سے ان سے کم نکلے
خدا کے واسطے زاہد اٹھا پردہ نہ کعبہ کاکہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے
تمنا ہے یہ دل میں جب تلک ہے دم میں دم اپنےظفرؔ منہ سے ہمارے نام اس کا دم بہ دم نکلے
۳۹ / ۵۲