کلامِ ظفرردیف ی

گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گی

۱

گالیاں تنخواہ ٹھہری ہے اگر بٹ جائے گیعاشقوں کے گھر مٹھائی لب شکر بٹ جائے گی

۲

روبرو گر ہوگا یوسف اور تو آ جائے گااس کی جانب سے زلیخا کی نظر بٹ جائے گی

۳

رہزنوں میں ناز و غمزہ کی یہ جنس دین و دلجوں متاع بردہ آخر ہم دگر بٹ جائے گی

۴

ہوگا کیا گر بول اٹھے غیر باتوں میں مریپھر طبیعت میری اے بیداد گر بٹ جائے گی

۵

دولت دنیا نہیں جانے کی ہرگز تیرے ساتھبعد تیرے سب یہیں اے بے خبر بٹ جائے گی

۶

کر لے اے دل جان کو بھی رنج و غم میں تو شریکیہ جو محنت تجھ پہ ہے کچھ کچھ مگر بٹ جائے گی

۷

مونگ چھاتی پہ جو دلتے ہیں کسی کی دیکھناجوتیوں میں دال ان کی اے ظفرؔ بٹ جائے گی

۳۷ / ۵۲