کلامِ ظفرردیف ے

واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہے

۱

واں رسائی نہیں تو پھر کیا ہےیہ جدائی نہیں تو پھر کیا ہے

۲

ہو ملاقات تو صفائی سےاور صفائی نہیں تو پھر کیا ہے

۳

دل ربا کو ہے دل ربائی شرطدل ربائی نہیں تو پھر کیا ہے

۴

گلہ ہوتا ہے آشنائی میںآشنائی نہیں تو پھر کیا ہے

۵

اللہ اللہ رے ان بتوں کا غروریہ خدائی نہیں تو پھر کیا ہے

۶

موت آئی تو ٹل نہیں سکتیاور آئی نہیں تو پھر کیا ہے

۷

مگس قاب اغنیا ہونا ہےبے حیائی نہیں تو پھر کیا ہے

۸

بوسۂ لب دل شکستہ کومومیائی نہیں تو پھر کیا ہے

۹

نہیں رونے میں گر ظفرؔ تاثیرجگ ہنسائی نہیں تو پھر کیا ہے

۴۰ / ۵۲