کلامِ ظفرردیف ے

واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے

۱

واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہےاور یہاں کچھ آرزو بسمل کے دل میں اور ہے

۲

وصل کی ٹھہراوے ظالم تو کسی صورت سے آجورنہ ٹھہری کچھ ترے مائل کے دل میں اور ہے

۳

ہے ہلال و بدر میں اک نور پر جو روشنیدل میں ناقص کے ہے وہ کامل کے دل میں اور ہے

۴

پہلے تو ملتا ہے دل داری سے کیا کیا دل رباباندھتا منصوبے پھر وہ مل کے دل میں اور ہے

۵

ہے مجھے بعد از سوال بوسہ خواہش وصل کییہ تمنا ایک اس سائل کے دل میں اور ہے

۶

گو وہ محفل میں نہ بولا پا گئے چتون سے ہمآج کچھ اس رونق محفل کے دل میں اور ہے

۷

یوں تو ہے وہ ہی دل عالم کے دل میں اے ظفرؔاس کا عالم مرد صاحب دل کے دل میں اور ہے

۴۱ / ۵۲