کلامِ ظفرردیف ے

تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے

۱

تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہےعشق کی آتش بلا ہے اس کی سوزش اور ہے

۲

کیوں نہ وحشت میں چبھے ہر مو بشکل نیش تیزخار غم کی تیرے دیوانے کی کاوش اور ہے

۳

مطربو باساز آؤ تم ہماری بزم میںساز و ساماں سے تمہاری اتنی سازش اور ہے

۴

تھوکتا بھی دختر رز پر نہیں مست الستجو کہ ہے اس فاحشہ پر غش وہ فاحش اور ہے

۵

تاب کیا ہمتاب ہووے اس سے خورشید فلکآفتاب داغ دل کی اپنے تابش اور ہے

۶

سب مٹا دیں دل سے ہیں جتنی کہ اس میں خواہشیںگر ہمیں معلوم ہو کچھ اس کی خواہش اور ہے

۷

ابر مت ہم چشم ہونا چشم دریا بار سےتیری بارش اور ہے اور اس کی بارش اور ہے

۸

ہے تو گردش چرخ کی بھی فتنہ انگیزی میں طاقتیری چشم فتنہ زا کی لیک گردش اور ہے

۹

بت پرستی جس سے ہووے حق پرستی اے ظفرؔکیا کہوں تجھ سے کہ وہ طرز پرستش اور ہے

۴۲ / ۵۲