کلامِ ظفرردیف ے
پان کی سرخی نہیں لب پر بت خوں خوار کے
۱
پان کی سرخی نہیں لب پر بت خوں خوار کےلگ گیا ہے خون عاشق منہ کو اس تلوار کے
۲
خال عارض دیکھ لو حلقے میں زلف یار کےمار مہرہ گر نہ دیکھا ہو دہن میں مار کے
۳
انجم تاباں فلک پر جانتی ہے جس کو خلقکچھ شرارے ہیں وہ میری آہ آتش بار کے
۴
طوبی جنت سے اس کو کام کیا ہے حوروشجو کہ ہیں آسودہ سائے میں تری دیوار کے
۵
پوچھتے ہو حال کیا میرا قمار عشق میںجھاڑ بیٹھا ہاتھ میں نقد دل و دیں ہار کے
۶
یہ ہوئی تاثیر عشق کوہکن سے سنگ آباشک جاری اب تلک چشموں سے ہیں کہسار کے
۷
ہے وہ بے وحدت کہ جو سمجھے ہے کفر و دیں میں فرقرکھتی ہے تسبیح رشتہ تار سے زنار کے
۸
وعدۂ دیدار جو ٹھہرا قیامت پر تو یاںروز ہوتی ہے قیامت شوق میں دیدار کے
۹
ہوشیاری ہے یہی کیجے ظفرؔ اس سے حذردیکھیے جس کو نشے میں بادۂ پندار کے
۴۳ / ۵۲