کلامِ ظفرردیف ے

نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

۱

نہ دائم غم ہے نے عشرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہےتبدل یاں ہے ہر ساعت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

۲

گریباں چاک ہوں گاہے اڑاتا خاک ہوں گاہےلیے پھرتی مجھے وحشت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

۳

ابھی ہیں وہ مرے ہم دم ابھی ہو جائیں گے دشمننہیں اک وضع پر صحبت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

۴

جو شکل شیشہ گریاں ہوں تو مثل جام خنداں ہوںیہی ہے یاں کی کیفیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

۵

کسی وقت اشک ہیں جاری کسی وقت آہ اور زاریغرض حال غم فرقت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

۶

کوئی دن ہے بہار گل پھر آخر ہے خزاں بالکلچمن ہے منزل عبرت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

۷

ظفرؔ اک بات پر دائم وہ ہووے کس طرح قائمجو اپنی پھیرتا نیت کبھی یوں ہے کبھی ووں ہے

۴۴ / ۵۲