کلامِ ظفرردیف ے

کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتے

۱

کیا کچھ نہ کیا اور ہیں کیا کچھ نہیں کرتےکچھ کرتے ہیں ایسا بخدا کچھ نہیں کرتے

۲

اپنے مرض غم کا حکیم اور کوئی ہےہم اور طبیبوں کی دوا کچھ نہیں کرتے

۳

معلوم نہیں ہم سے حجاب ان کو ہے کیسااوروں سے تو وہ شرم و حیا کچھ نہیں کرتے

۴

گو کرتے ہیں ظاہر کو صفا اہل کدورتپر دل کو نہیں کرتے صفا کچھ نہیں کرتے

۵

وہ دلبری اب تک مری کچھ کرتے ہیں لیکنتاثیر ترے نالے دلا کچھ نہیں کرتے

۶

دل ہم نے دیا تھا تجھے امید وفا پرتم ہم سے نہیں کرتے وفا کچھ نہیں کرتے

۷

کرتے ہیں وہ اس طرح ظفرؔ دل پہ جفائیںظاہر میں یہ جانو کہ جفا کچھ نہیں کرتے

۴۵ / ۵۲