کلامِ ظفرردیف ے
کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے
۱
کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گےجو ہوگی عمر بھر کی راہ تو دم بھر میں آویں گے
۲
اگر ہاتھوں سے اس شیریں ادا کے ذبح ہوں گے ہمتو شربت کے سے گھونٹ آب دم خنجر میں آویں گے
۳
یہی گر جوش گریہ ہے تو بہہ کر ساتھ اشکوں کےہزاروں پارۂ دل میرے چشم تر میں آویں گے
۴
گر اس قید بلا سے اب کی چھوٹیں گے تو پھر ہرگزنہ ہم دام فریب شوخ غارت گر میں آویں گے
۵
نہ جاتے گرچہ مر جاتے جو ہم معلوم کر جاتےکہ اتنا تنگ جا کر کوچہ دلبر میں آویں گے
۶
گریباں چاک لاکھوں ہاتھ سے اس مہر طلعت کےبرنگ صبح محشر عرصۂ محشر میں آویں گے
۷
جو سرگردانی اپنی تیرے دیوانے دکھائیں گےتو پھر کیا کیا بگولے دشت کے چکر میں آویں گے
۸
ظفرؔ اپنا کرشمہ گر دکھایا چشم ساقی نےتماشے جام جم کے سب نظر ساغر میں آویں گے
۴۶ / ۵۲