کلامِ ظفرردیف ے
عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہے
۱
عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہےلیک نادانی سے اپنی تو نے سمجھا سہل ہے
۲
گر کھلے دل کی گرہ تجھ سے تو ہم جانیں تجھےاے صبا غنچے کا عقدہ کھول دینا سہل ہے
۳
ہمدمو دل کے لگانے میں کہو لگتا ہے کیاپر چھڑانا اس کا مشکل ہے لگانا سہل ہے
۴
گرچہ مشکل ہے بہت میرا علاج درد دلپر جو تو چاہے تو اے رشک مسیحا سہل ہے
۵
ہے بہت دشوار مرنا یہ سنا کرتے تھے ہمپر جدائی میں تری ہم نے جو دیکھا سہل ہے
۶
شمع نے جل کر جلایا بزم میں پروانے کوبن جلے اپنے جلانا کیا کسی کا سہل ہے
۷
عشق کا رستہ سراسر ہے دم شمشیر پربوالہوس اس راہ میں رکھنا قدم کیا سہل ہے
۸
اے ظفرؔ کچھ ہو سکے تو فکر کر عقبیٰ کا توکر نہ دنیا کا تردد کار دنیا سہل ہے
۴۷ / ۵۲