کلامِ ظفرردیف ے

ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتے

۱

ہم یہ تو نہیں کہتے کہ غم کہہ نہیں سکتےپر جو سبب غم ہے وہ ہم کہہ نہیں سکتے

۲

ہم دیکھتے ہیں تم میں خدا جانے بتو کیااس بھید کو اللہ کی قسم کہہ نہیں سکتے

۳

رسوائے جہاں کرتا ہے رو رو کے ہمیں توہم تجھے کچھ اے دیدۂ نم کہہ نہیں سکتے

۴

کیا پوچھتا ہے ہم سے تو اے شوخ ستم گرجو تو نے کئے ہم پہ ستم کہہ نہیں سکتے

۵

ہے صبر جنہیں تلخ کلامی کو تمہاریشربت ہی بتاتے ہیں سم کہہ نہیں سکتے

۶

جب کہتے ہیں کچھ بات رکاوٹ کی ترے ہمرک جاتا ہے یہ سینہ میں دم کہہ نہیں سکتے

۷

اللہ رے ترا رعب کہ احوال دل اپنادے دیتے ہیں ہم کر کے رقم کہہ نہیں سکتے

۸

طوبائے بہشتی ہے تمہارا قد رعناہم کیونکر کہیں سرو ارم کہہ نہیں سکتے

۹

جو ہم پہ شب ہجر میں اس ماہ لقا کےگزرے ہیں ظفرؔ رنج و الم کہہ نہیں سکتے

۴۸ / ۵۲