کلامِ ظفرردیف ے
گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے
گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہےکروں اس ستم کو میں کیا بیاں مرا غم سے سینہ فگار ہے
یہ رعایۂ ہند تبہ ہوئی کہوں کیا جو ان پہ جفا ہوئیجسے دیکھا حاکم وقت نے کہا یہ بھی قابل دار ہے
یہ کسی نے ظلم بھی ہے سنا کہ دی پھانسی لوگوں کو بے گناہوہی کلمہ گویوں کی سمت سے ابھی دل میں ان کے بخار ہے
نہ تھا شہر دہلی یہ تھا چمن کہو کس طرح کا تھا یاں امنجو خطاب تھا وہ مٹا دیا فقط اب تو اجڑا دیار ہے
یہی تنگ حال جو سب کا ہے یہ کرشمہ قدرت رب کا ہےجو بہار تھی سو خزاں ہوئی جو خزاں تھی اب وہ بہار ہے
شب و روز پھول میں جو تلے کہو خار غم کو وہ کیا سہےملے طوق قید میں جب انہیں کہا گل کے بدلے یہ ہار ہے
سبھی جادہ ماتم سخت ہے کہو کیسی گردش بخت ہےنہ وہ تاج ہے نہ وہ تخت ہے نہ وہ شاہ ہے نہ دیار ہے
جو سلوک کرتے تھے اور سے وہی اب ہیں کتنے ذلیل سےوہ ہیں تنگ چرخ کے جور سے رہا تن پہ ان کے نہ تار ہے
نہ وبال تن پہ ہے سر مرا نہیں جان جانے کا ڈر ذراکٹے غم ہی، نکلے جو دم مرا مجھے اپنی زندگی بار ہے
کیا ہے غم ظفرؔ تجھے حشر کا جو خدا نے چاہا تو برملاہمیں ہے وسیلہ رسول کا وہ ہمارا حامیٔ کار ہے
۵۰ / ۵۲