کلامِ ظفرردیف د
سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجود
۱
سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجودغافل تو ذرا دیکھ وہ ہر آن ہے موجود
۲
ہر تار کا دامن کے مرے کر کے تبرکسربستہ ہر اک خار بیابان ہے موجود
۳
عریانی تن ہے یہ بہ از خلعت شاہیہم کو یہ ترے عشق میں سامان ہے موجود
۴
کس طرح لگاوے کوئی داماں کو ترے ہاتھہونے کو تو اب دست و گریبان ہے موجود
۵
لیتا ہی رہا رات ترے رخ کی بلائیںتو پوچھ لے یہ زلف پریشان ہے موجود
۶
تم چشم حقیقت سے اگر آپ کو دیکھوآئینۂ حق میں دل انسان ہے موجود
۷
کہتا ہے ظفرؔ ہیں یہ سخن آگے سبھوں کےجو کوئی یہاں صاحب عرفان ہے موجود
۱۳ / ۵۲